دی ڈائینگ سن بارہویں جماعت لاہور بورڈ گائیڈ
کائنات اور ستاروں کی گردش
کائنات اور ستاروں کی گردش
کائنات ناقابلِ تصور حد تک وسیع ہے۔ اس میں اربوں ستارے موجود ہیں، شاید اتنے ہی جتنے زمین کے تمام ساحلوں پر ریت کے ذرات ہیں۔ ہر ستارہ خود ایک سورج ہے، جو اکثر ہمارے سورج سے کہیں زیادہ بڑا ہوتا ہے۔ سر جیمز جینز نے اپنے مضمون 'ڈائنگ سن' میں اس وسعت کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
یہ ستارے خلا میں بے ترتیب بکھرے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ کہکشاؤں کی شکل میں منظم ہیں۔ لیکن ان کہکشاؤں کے اندر بھی ستاروں کے درمیان فاصلے بہت زیادہ ہیں۔ زیادہ تر ستارے خلا میں تنہا سفر کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسے وسیع سمندر میں بحری جہازوں کی طرح ہیں جہاں ہر جہاز دوسرے سے ہزاروں میل دور ہو۔
ستاروں کا تنہا سفر
ہر ستارہ اپنی ایک مخصوص رفتار اور سمت میں حرکت کر رہا ہے۔ ہمارا سورج بھی خلا میں تقریباً اکیلا سفر کر رہا ہے۔ اس کا قریب ترین پڑوسی ستارہ، پروکسیما سینٹوری، ہم سے تقریباً 4.2 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ یہ فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ اگر آپ روشنی کی رفتار سے بھی سفر کریں تو وہاں پہنچنے میں چار سال سے زیادہ لگ جائیں گے۔
ستاروں کے درمیان اوسط فاصلہ لاکھوں میل سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے کسی ایک ستارے کا دوسرے کے قریب آنا تقریباً ناممکن ہے۔
تصادم کا نہ ہونا
ان巨大的 فاصلوں کی وجہ سے، ستاروں کا آپس میں ٹکرانا ایک انتہائی نایاب واقعہ ہے۔ لاکھوں میل کا فاصلہ دراصل ایک بہت چھوٹا اندازہ ہے۔ اگر ہم کائنات کو ایک پیمانے پر چھوٹا کریں اور ستاروں کو گیند سمجھیں، تو ہر گیند دوسری سے ہزاروں کلومیٹر دور ہوگی۔
اس لیے، جب ہم رات کو آسمان پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہر چمکتا ہوا نقطہ ایک بہت بڑا سورج ہے جو ہم سے ناقابلِ یقین حد تک دور ہے اور اپنے تنہا سفر پر گامزن ہے۔ یہ کائنات کی وسعت اور ہماری اپنی زمین کی اہمیت کا احساس دلاتا ہے۔ یہ واقعات اتنے کم ہوتے ہیں کہ شاید اربوں سالوں میں ایک بار کوئی ستارہ دوسرے کے قریب آتا ہو۔
یہ سمجھنا کہ ستارے کس طرح حرکت کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے کتنی دور ہیں، ہمیں کائنات کی ساخت اور اس میں ہمارے مقام کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔