No history yet

زبور 69 کا تعارف

زبور 69: ایک مسیحی فریاد

زبور 69 داؤد کی ایک گہری اور ذاتی فریاد ہے۔ یہ ایک ایسے شخص کی پکار ہے جو شدید مصیبت میں گھرا ہوا ہے، جسے لگتا ہے کہ وہ گہرے پانیوں میں ڈوب رہا ہے اور اس کے دشمن ہر طرف سے اسے گھیرے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ زبور صرف داؤد کی کہانی نہیں ہے۔ یہ آنے والے مسیح، یسوع، کے دکھوں کی ایک طاقتور پیشگوئی ہے۔ جب ہم اس زبور کو پڑھتے ہیں، تو ہم دراصل دکھ سہنے والے خادم کی تصویر دیکھتے ہیں، جو بے گناہ ہوتے ہوئے بھی دوسروں کے لیے تکلیف اٹھاتا ہے۔

’’مَیں گہرے پانی میں ڈُوب گیا ہُوں۔ سَیلاب مُجھ پر سے گُزر گیا۔‘‘ (زبور 69: 2)

اس زبور کی زبان استعاروں سے بھری ہوئی ہے۔ داؤد اپنی تکلیف کو بیان کرنے کے لیے ڈوبنے، کیچڑ میں دھنسنے اور پیاس کی شدت جیسی تشبیہات استعمال کرتا ہے۔ یہ صرف جسمانی تکلیف نہیں، بلکہ روحانی اور جذباتی اذیت کا اظہار ہے۔ یہ وہی اذیت ہے جو یسوع نے اپنے مصلوبیت کے وقت محسوس کی۔ نئے عہد نامے میں اس زبور کا بار بار حوالہ دیا گیا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ابتدائی مسیحی یسوع کی زندگی اور موت کو اسی زبور کی روشنی میں سمجھتے تھے۔

مسیح کے بارے میں پیشگوئیاں

زبور 69 کی کئی آیات کو نئے عہد نامے میں براہ راست یسوع سے منسوب کیا گیا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے، بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ داؤد کی تکلیفیں کس طرح مسیح کے مستقبل کے دکھوں کا ایک نمونہ تھیں۔

مثال کے طور پر، آیت 9 میں داؤد کہتا ہے، ’’کیونکہ تیرے گھر کی غیرت مجھے کھا گئی۔‘‘ یوحنا کی انجیل میں، جب یسوع ہیکل کو صاف کرتے ہیں، تو ان کے شاگردوں کو یہی آیت یاد آتی ہے (یوحنا 2: 17)۔ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ یسوع کا جوش خدا کے گھر کے لیے تھا۔

Lesson image

سب سے زیادہ دل دہلا دینے والی پیشگوئی آیت 21 میں ملتی ہے: ’’اُنہوں نے میرے کھانے کے لئے اِندراین دیا اور میری پیاس بُجھانے کے لئے مُجھے سِرکہ پِلایا۔‘‘ یہ الفاظ براہ راست یسوع کی مصلوبیت کے وقت پورے ہوئے، جب رومی سپاہیوں نے انہیں پینے کے لیے سرکہ پیش کیا (متی 27: 34، 48)۔ یہ چھوٹی چھوٹی تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ مسیح کے دکھ صدیوں پہلے ہی خدا کے کلام میں لکھ دیے گئے تھے۔

ایک اور مثال آیت 4 میں ہے: ’’میرے سر کے بالوں سے زیادہ وہ ہیں جو مجھ سے بے سبب کینہ رکھتے ہیں۔‘‘ یسوع نے اپنے شاگردوں سے بات کرتے ہوئے اسی جذبے کا اظہار کیا اور کہا کہ دنیا ان سے بغیر کسی وجہ کے نفرت کرے گی، بالکل اسی طرح جیسے ان کے بارے میں لکھا گیا تھا (یوحنا 15: 25)۔

اس طرح، زبور 69 صرف ایک قدیم دعا نہیں ہے، بلکہ یہ مسیح کے دکھوں، اس کی قربانی، اور اس کے جوش کو سمجھنے کی ایک کلید ہے۔ یہ ہمیں دکھاتا ہے کہ خدا کا منصوبہ تاریخ کے ہر دور میں کام کر رہا تھا، اور داؤد کی فریاد میں بھی نجات کی کہانی چھپی ہوئی تھی۔

Quiz Questions 1/4

زبور 69 کی بنیادی اہمیت کیا ہے؟

Quiz Questions 2/4

زبور 69 کی کونسی آیت براہ راست یسوع کی مصلوبیت کے وقت پوری ہوئی جب انہیں پینے کے لیے سرکہ پیش کیا گیا؟