زبور اور مسیح کے الفاظ کا موازنہ
زبور 69 کا سیاق
زبور 69 کا پس منظر
زبور 69 حضرت داؤد کے شدید دکھ اور تکلیف کا اظہار ہے۔ وہ خود کو ایک ڈوبتے ہوئے شخص سے تشبیہ دیتے ہیں جو گہرے پانی میں ہے اور کیچڑ میں دھنستا جا رہا ہے۔ اُن کے دشمن بے شمار ہیں اور بغیر کسی وجہ کے ان سے نفرت کرتے ہیں۔ یہ زبور صرف جسمانی اذیت کا بیان نہیں ہے، بلکہ اس میں روحانی کرب بھی شامل ہے۔ داؤد کو لگتا ہے کہ خدا کے لیے ان کی غیرت اور خدمت ہی ان کی رسوائی کا سبب بنی ہے۔
اس زبور میں داؤد کی پکار بہت ذاتی اور شدید ہے۔ وہ اپنی تکلیف کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں، جس میں لوگوں کے طعنے، ان کے خاندان کی لاتعلقی، اور ان کا مذاق اڑایا جانا شامل ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی وفاداری کی سزا دی جا رہی ہے، اور اسی مایوسی کے عالم میں وہ خدا سے مدد اور نجات کی فریاد کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسے شخص کی آواز ہے جو ہر طرف سے گِھر چکا ہے اور اس کی آخری امید صرف خدا کی ذات ہے۔
بددعائیہ زبور کیا ہے؟
زبور 69 ایک 'بددعائیہ زبور' (Imprecatory Psalm) کی بہترین مثال ہے۔ یہ وہ زبور ہوتے ہیں جن میں لکھنے والا اپنے دشمنوں پر خدا کی طرف سے سزا یا لعنت بھیجنے کی درخواست کرتا ہے۔ پہلی نظر میں یہ الفاظ بہت سخت اور انتقامی لگ سکتے ہیں، لیکن ان کا مقصد ذاتی بدلہ نہیں ہوتا۔
یہ زبور دراصل انصاف کے لیے ایک فریاد ہیں۔ لکھنے والا خدا سے درخواست کرتا ہے کہ وہ برائی اور ظلم کے خلاف مداخلت کرے اور اپنے الٰہی انصاف کو قائم کرے۔
حضرت داؤد بادشاہ اور خدا کے مقرر کردہ نمائندے تھے۔ ان کے دشمن صرف ان کے ذاتی مخالف نہیں تھے، بلکہ وہ خدا کی بادشاہت اور اس کے اصولوں کے بھی دشمن تھے۔ اس لیے، جب داؤد ان کے خلاف عدل کی دعا کرتے ہیں، تو وہ دراصل خدا کے نام اور اس کے جلال کے لیے غیرت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ شر کو شکست ہو اور نیکی غالب آئے۔
عہدِ عتیق میں انصاف کا تصور
عہدِ عتیق کے نظامِ انصاف کو سمجھنے کے لیے 'آنکھ کے بدلے آنکھ' کے قانون کو جاننا ضروری ہے۔ یہ اصول، جسے 'Lex Talionis' بھی کہا جاتا ہے، لا محدود انتقام کو روکنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ سزا جرم کے برابر ہو، نہ اس سے کم اور نہ زیادہ۔ یہ ذاتی بدلے کا لائسنس نہیں تھا، بلکہ معاشرے میں انصاف اور توازن قائم رکھنے کا ایک قانونی طریقہ کار تھا۔
اس نظام میں، گناہ اور شر کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ خدا کے عہد کے تحت، اسرائیل ایک مقدس قوم تھی اور اسے اپنے درمیان سے برائی کو ختم کرنا تھا۔ حضرت داؤد، بحیثیت بادشاہ، اس الٰہی قانون کو قائم رکھنے کے ذمہ دار تھے۔
جب وہ اپنے دشمنوں کے لیے سزا کی دعا کرتے ہیں، تو وہ اسی الٰہی انصاف کے نظام کے مطابق بات کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ دشمنوں نے ان کے ساتھ کیا ہے، وہی ان کے ساتھ بھی کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ یہ ذاتی کینہ نہیں، بلکہ الٰہی ترتیب کی بحالی کی خواہش ہے۔
اس لیے جب داؤد کہتے ہیں:
"اُن کی آنکھیں ایسی اندھی ہو جائیں کہ وہ دیکھ نہ سکیں۔ اور تُو اُن کی کمر کو ہمیشہ لرزتا رکھ۔ اپنا قہر اُن پر برسا۔ اور تیرا شدید غضب اُن کو آ لے۔" (زبور 69: 23-24)
تو وہ دراصل یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اے خدا، آپ اپنے انصاف کے مطابق عمل کریں اور شر کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں۔
زبور 69 میں، حضرت داؤد اپنی شدید تکلیف کو کس چیز سے تشبیہ دیتے ہیں؟
زبور 69 کس قسم کے زبور کی ایک بہترین مثال ہے؟
آپ نے زبور 69 کے تاریخی اور الٰہیاتی پس منظر کو سمجھ لیا ہے۔ یہ زبور ذاتی انتقام کے بارے میں نہیں، بلکہ الٰہی انصاف اور خدا کے جلال کے لیے ایک گہری پکار ہے۔

