No history yet

ایٹمی ساخت اور کوانٹم نمبرز

بوہر کے ماڈل سے آگے

آپ جانتے ہیں کہ نیلز بوہر کا ماڈل ایٹم کو سمجھنے میں ایک اہم قدم تھا۔ اس نے بتایا کہ الیکٹران نیوکلیس کے گرد مخصوص مداروں یا شیلز میں گردش کرتے ہیں، اور ہر مدار کی ایک خاص توانائی ہوتی ہے۔ یہ ماڈل ہائیڈروجن جیسے ایک الیکٹران والے ایٹموں کی وضاحت تو کامیابی سے کرتا تھا، لیکن جب اسے زیادہ الیکٹران والے ایٹموں پر لاگو کیا گیا تو یہ ناکام ہوگیا۔

اس کی دو بڑی خامیاں تھیں:

  1. یہ ماڈل صرف ایک الیکٹران رکھنے والے سسٹم (جیسے H, He⁺, Li²⁺) کے سپیکٹرم کی وضاحت کر سکتا تھا۔ ایک سے زیادہ الیکٹران والے ایٹموں کے سپیکٹرم کی پیچیدگی اس کے دائرہ کار سے باہر تھی۔
  2. جب ایٹم کو مقناطیسی فیلڈ یا الیکٹرک فیلڈ میں رکھا جاتا ہے تو اس کی سپیکٹرل لائنز مزید باریک لائنوں میں تقسیم ہو جاتی ہیں۔ اس عمل کو بالترتیب Zeeman Effect اور Stark Effect کہا جاتا ہے۔ بوہر کا ماڈل اس تقسیم کی کوئی وضاحت پیش نہ کر سکا۔

ان حدود نے سائنسدانوں کو ایک نئے اور زیادہ جامع ماڈل کی طرف دھکیل دیا، جسے کوانٹم میکانیکل ماڈل کہا جاتا ہے۔

Lesson image

کوانٹم نمبرز: الیکٹران کا مکمل پتہ

کوانٹم میکانیکل ماڈل الیکٹران کو ایک ذرے کے بجائے ایک لہر (wave) کے طور پر دیکھتا ہے اور اس کے مقام کو "مدار" (orbit) کی بجائے "آربٹل" (orbital) سے تعبیر کرتا ہے۔ آربٹل نیوکلیس کے گرد وہ سہ جہتی (3D) جگہ ہے جہاں الیکٹران کے پائے جانے کا امکان سب سے زیادہ (تقریباً 95%) ہوتا ہے۔

ہر الیکٹران کی توانائی اور حالت کو بیان کرنے کے لیے چار کوانٹم نمبرز استعمال ہوتے ہیں۔ انہیں آپ الیکٹران کا مکمل پتہ سمجھ سکتے ہیں: ملک، شہر، محلہ اور گھر کا نمبر۔

Principal Quantum Number (n)

noun

یہ الیکٹران کے بنیادی توانائی کے لیول یا شیل کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کی قیمت ہمیشہ ایک مثبت عدد (1, 2, 3, ...) ہوتی ہے۔ n کی قیمت جتنی زیادہ ہوگی، الیکٹران نیوکلیس سے اتنا ہی دور ہوگا اور اس کی توانائی بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔

دوسرا کوانٹم نمبر آربٹل کی شکل بتاتا ہے۔

Azimuthal Quantum Number (l)

noun

اسے آربیٹل اینگولر مومینٹم کوانٹم نمبر بھی کہتے ہیں۔ یہ شیل کے اندر موجود سب شیلز (subshells) اور آربٹل کی شکل (shape) کی وضاحت کرتا ہے۔ اس کی قیمت 0 سے لے کر n-1 تک ہو سکتی ہے۔ •\tاگر l = 0 ہے، تو یہ 's' سب شیل ہے (شکل میں کروی)۔ •\tاگر l = 1 ہے، تو یہ 'p' سب شیل ہے (ڈمبیل کی شکل)۔ •\tاگر l = 2 ہے، تو یہ 'd' سب شیل ہے۔ •\tاگر l = 3 ہے، تو یہ 'f' سب شیل ہے۔

آربٹل کی شکل معلوم ہونے کے بعد، ہمیں خلا میں اس کی سمت بندی (orientation) بھی جاننے کی ضرورت ہوتی ہے۔

Magnetic Quantum Number (mₗ)

noun

یہ نمبر خلا (space) میں آربٹل کی سمت بندی کی وضاحت کرتا ہے۔ اس کی قیمت -l سے +l تک ہوتی ہے، جس میں صفر بھی شامل ہے۔ •\t's' سب شیل (l=0) کے لیے، mₗ صرف 0 ہو سکتا ہے۔ اس لیے s کا صرف ایک ہی آربٹل ہوتا ہے۔ •\t'p' سب شیل (l=1) کے لیے، mₗ کی قیمت -1، 0، اور +1 ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ p کے تین آربٹلز (px, py, pz) ہوتے ہیں، جو x، y، اور z محور پر واقع ہوتے ہیں۔ •\t'd' سب شیل (l=2) کے لیے، mₗ کی پانچ ممکنہ قیمتیں (-2, -1, 0, +1, +2) ہوتی ہیں، یعنی اس کے پانچ آربٹلز ہوتے ہیں۔

Spin Quantum Number (mₛ)

noun

یہ الیکٹران کی اندرونی خاصیت کو ظاہر کرتا ہے جسے "سپن" کہتے ہیں۔ الیکٹران اپنے محور کے گرد گھومتا ہے، جس سے ایک چھوٹا مقناطیسی میدان پیدا ہوتا ہے۔ اس کی صرف دو ممکنہ قیمتیں ہوتی ہیں: +1/2 (اوپر کی طرف سپن، جسے ↑ سے ظاہر کیا جاتا ہے) اور -1/2 (نیچے کی طرف سپن، جسے ↓ سے ظاہر کیا جاتا ہے)۔

الیکٹرانک کنفیگریشن کے اصول

الیکٹرانک کنفیگریشن سے مراد کسی ایٹم کے آربٹلز میں الیکٹرانز کی ترتیب ہے۔ اس ترتیب کو لکھنے کے لیے تین بنیادی اصول استعمال ہوتے ہیں۔

Aufbau Principle: الیکٹران ہمیشہ سب سے کم توانائی والے آربٹل میں پہلے داخل ہوتے ہیں۔ جب وہ بھر جاتا ہے، تو اگلے دستیاب کم ترین توانائی والے آربٹل میں جاتے ہیں۔

آربٹلز کی توانائی کا انحصار n+ln+l کی قیمت پر ہوتا ہے۔ جس آربٹل کے لیے n+ln+l کی قیمت کم ہوگی، اس کی توانائی بھی کم ہوگی۔ اگر دو آربٹلز کے لیے n+ln+l کی قیمت برابر ہو، تو جس کا nn کم ہوگا، اس کی توانائی کم ہوگی۔

توانائی کی ترتیب یہ ہے: 1s < 2s < 2p < 3s < 3p < 4s < 3d < 4p ...

[{<Pauli's Exclusion Principle>}]: ایک ایٹم میں کوئی بھی دو الیکٹران چاروں کوانٹم نمبرز کا ایک جیسا سیٹ نہیں رکھ سکتے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ اگر دو الیکٹران ایک ہی آربٹل میں ہیں، تو ان کا سپن مخالف ہونا چاہیے (ایک +1/2 اور دوسرا -1/2)۔ اسی لیے ایک آربٹل میں زیادہ سے زیادہ دو الیکٹران ہی سما سکتے ہیں۔

Hund's Rule: جب ایک ہی توانائی کے آربٹلز (degenerate orbitals) جیسے p یا d میں الیکٹران بھرے جاتے ہیں، تو الیکٹران پہلے ہر آربٹل میں ایک ایک کرکے (ایک ہی سپن کے ساتھ) داخل ہوتے ہیں۔ جوڑا بننے کا عمل تب شروع ہوتا ہے جب تمام آربٹلز میں کم از کم ایک الیکٹران آ جائے۔

آئیے ان اصولوں کا اطلاق کرتے ہوئے نائٹروجن (Z=7) کی الیکٹرانک کنفیگریشن لکھتے ہیں:

  1. Aufbau Principle کے مطابق، پہلے دو الیکٹران 1s آربٹل میں جائیں گے: $1s^2$
  2. اگلے دو الیکٹران 2s آربٹل میں جائیں گے: $1s^2 2s^2$
  3. باقی تین الیکٹران 2p سب شیل میں جائیں گے۔
  4. Hund's Rule کے مطابق، یہ تین الیکٹران تینوں p آربٹلز (px, py, pz) میں ایک ایک کرکے داخل ہوں گے اور ان سب کا سپن ایک جیسا ہوگا۔

لہٰذا، نائٹروجن کی مکمل کنفیگریشن $1s^2 2s^2 2p^3$ ہے۔ اسے باکس ڈایاگرام میں یوں دکھایا جا سکتا ہے:

Nitrogen (Z=7)

1s: [↑↓]
2s: [↑↓]
2p: [↑ ][↑ ][↑ ]
Quiz Questions 1/6

نیلز بوہر کا ایٹمی ماڈل کس چیز کی وضاحت کرنے میں ناکام رہا؟

Quiz Questions 2/6

کوانٹم میکانیکل ماڈل میں، 'آربٹل' (orbital) سے کیا مراد ہے؟