No history yet

علمی سفر اور فلسفہ

ڈاکٹر محمد رشید کا فکری سفر

ڈاکٹر محمد رشید کی پہچان صرف ایک ماہرِ طب تک محدود نہیں، بلکہ وہ ایک ایسے مفکر تھے جنہوں نے طب کو فلسفے، خاص طور پر جدیدیت (Modernity) کے وسیع تناظر میں پرکھا۔ ان کا علمی کام اس سوال کے گرد گھومتا ہے کہ جدید سائنسی ترقی نے انسانی صحت، اقدار اور زندگی کے معنی کو کس طرح تبدیل کیا ہے۔ وہ محض بیماریوں کے علاج پر بات نہیں کرتے تھے، بلکہ اس بات کا گہرا تجزیہ کرتے تھے کہ جدید دنیا نے انسان کے اپنے جسم اور روح سے تعلق کو کیسے متاثر کیا ہے۔

جدیدیت کا تنقیدی جائزہ

پنجاب یونیورسٹی میں دیے گئے اپنے لیکچرز میں ڈاکٹر رشید نے واضح کیا کہ نے جہاں انسان کو بے پناہ مادی سہولیات دی ہیں، وہیں اس سے ایک روحانی خلا بھی پیدا ہوا ہے۔ ان کے مطابق، جدید طب کی تمام تر کامیابیوں کے باوجود اس کا ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اکثر انسان کو ایک مشین کے طور پر دیکھتی ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ علاج کا عمل صرف تکنیکی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے مریض کے نفسیاتی، سماجی اور روحانی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ ان کا فلسفہ اس خیال پر مبنی تھا کہ جدید دنیا میں ہم نے 'علاج' کو 'ٹھیک کرنے' تک محدود کر دیا ہے، جبکہ شفا کا عمل اس سے کہیں زیادہ گہرا اور جامع ہوتا ہے۔

جدید طب بیماری کا علاج کرتی ہے، لیکن جدیدیت نے ہمیں یہ بھلا دیا ہے کہ مریض صرف ایک جسم نہیں، بلکہ ایک مکمل انسان ہے۔

یہ نقطہ نظر ان کے کام کا مرکزی نکتہ تھا۔ وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ سائنسی طب کو ترک کر دیا جائے، بلکہ ان کا مطالبہ تھا کہ اسے وسیع تر انسانی اقدار کے دائرے میں واپس لایا جائے۔

Lesson image

طب، اخلاقیات اور انسانیت

ڈاکٹر رشید کے فکری سفر کا ایک اہم سنگ میل طب اور انسانی اقدار کے درمیان تعلق کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش تھی۔ انہوں نے طب کے میدان میں بڑھتی ہوئی کمرشلائزیشن اور غیر شخصی رویوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق، ایک ڈاکٹر کا کام صرف نسخہ لکھنا نہیں، بلکہ مریض کے دکھ کو سمجھنا اور اس کے ساتھ ایک انسانی تعلق قائم کرنا بھی ہے۔

انہوں نے (Medical Humanities) کے شعبے کو فروغ دینے کی وکالت کی، جس کا مقصد میڈیکل کے طلباء کو ادب، فلسفہ، اور تاریخ جیسے مضامین سے روشناس کرانا ہے تاکہ وہ زیادہ ہمدرد اور بہتر معالج بن سکیں۔ ان کا ماننا تھا کہ ایک اچھا ڈاکٹر بننے کے لیے سائنس کے ساتھ ساتھ انسانی نفسیات اور اخلاقیات کا گہرا شعور بھی ضروری ہے۔

مختصراً، ڈاکٹر رشید کا علمی ورثہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طب کا اصل مقصد صرف زندگی کو طول دینا نہیں، بلکہ اسے بامعنی اور باوقار بنانا بھی ہے۔ ان کا کام آج کے ڈاکٹروں اور مفکرین کے لیے یکساں طور پر مشعلِ راہ ہے۔